دل کیسا لگا، اور جگر کیسا لگا ہے
اے خاک بسر عشق سفر کیسا لگا ہے
دیکھا وہ ہجوم اب کے تِرے شہر میں، توبہ
ہے کیسا اِدھر، اور اُدھر کیسا لگا ہے
اس شخص کا دامن بھی کہیں چھوٹ نہ جائے
اک عمر کے بعد اس کے نگر سے جو گزر ہے
اس شہر کا اک ایک شجر کیسا لگا ہے
تُو نے تو ہوا رخ کی طرح پھیر لیں نظریں
مانا کہ نہیں رنج، مگر کیسا لگا ہے
کیا نذر بجز اشک کروں راہ میں تیری
بس پیش کیا دامنِ تر، کیسا لگا ہے
مانا کہ رشید عشق نے برباد کیا دل
افشا نہ کیا راز، ہنر کیسا لگا ہے
رشید حسرت
No comments:
Post a Comment