آتشِ جاں میں جل رہا ہے چنار
اپنے موسم بدل رہا ہے چنار
چشمِ نرگس کی آبیاری سے
وادئ گل میں پل رہا ہے چنار
غرقِ دریا غرور طوفاں کا
کیسا جھکڑ ہے، جان لیوا ہے
گرتے گرتے سنبھل رہا ہے چنار
پیلے پت جھڑ کا منہ چڑانے کو
سرخرو بر محل رہا ہے چنار
قافیہ تنگ ہے غزل خواں کا
اسکے اشکوں میں ڈھل رہا ہے چنار
مظفر عازم
No comments:
Post a Comment