Sunday, 13 September 2020

رنگ شکستہ ہو تو اس کے در پر جا کر ملتا ہے

دوشیزہ

رنگ شکستہ ہو تو اس کے در پر جا کر ملتا ہے
اور تبسم کے سب اگلے پچھلے روپ اسی کے ہیں
نام جو پریوں کا سنتے ہو، اس کے ہی سب قصے ہیں
ہاں کچھ لوگ ہیں جن کو یہ اعزاز ملا کہ اس کو دیکھیں
ہاں وہ لوگ ہیں، جو پھر کملے ہو کر باتیں گھڑ لیتے ہیں
جا کر کہتے ہیں کہ جھیل کنارے ان کو دید ہوئی ہے

دید بھی ایسی ویسی کیا کہ
روپ چھلکتے جام سے بڑھ کر
نور سلگتی شام سے بڑھ کر
اور اگر زلفوں کا پوچھو
قسم اٹھانے پر آ جائیں
قسم سے دنیا جیسی نہ ہے
قسم سے وہ سب سے ہی جدا ہے
یہ جو روپ کی رانی ہے ناں
اس کی چادر میں کتنے ارمانوں کی فہرست لگی ہے
اس میں کتنا نور چھپا کر رکھا ہو گا
اس کے سبز غلاف کے اندر
جانے خالق نے کیا کیا اعجاز بنا کر رکھا ہو گا
اور کئی باتیں سنتے ہیں
یہ جو لوگ ہیں پاگل پاگل
گلیوں میں پھرتے ہیں اپنے گرد زدہ بالوں کو لے کر
جن کو دنیا و ما فیہا کا کچھ ہوش نہیں رہ پاتا
کون ہیں وہ؟
کہتے ہیں یہ لوگ وہی ہیں جن کے سامنے سے اک بار
پری کا گزر ہوا تھا
پھر نہ ان کو ہوش سجھایا
پھر نہ کچھ بھی سمجھ میں آیا
بس تب سے سب پاگل پاگل پھرتے ہیں یہ
کون ہے وہ پھر
نہ پریوں میں ثانی اس کا
نہ دنیا نہ پہلے والی
نہ امید کہ آنے والی
شرقوں، غربوں، شہروں، قصبوں
گاؤں، گلیوں، اور محلوں میں ناہیں ہے
اس کے جیسا کوئی نہیں ہے
اس کے روپ سے سورج کی کرنیں ہر روز امڈتی ہیں
اس کی سانس میں تازہ پن ہے
اتنے چرچوں میں بھی اس کی باتیں کاری ہوتی ہیں
پھر تو اس کے ہاتھ سے نور کی نہریں جاری ہوتی ہیں

وجاہت باقی

No comments:

Post a Comment