Sunday, 13 September 2020

پچھلی بار ملے جب ہم تم

وقت بتاؤ

پچھلی بار ملے جب ہم تم
باتیں کرتے کرتے تم نے
مجھ سے بولا
وقت بتاؤ
تب تو میں نے بن سوچے ہی
بول دیا کہ
چار بجے ہیں
تم نے حیرت اور تجسس کے ملتے جلتے جذبات میں
اٹھتے اٹھتے شور مچایا
اوہ خدایا
جانا ہے اب
میں نے بھی اک لاپرواہی سے سوچا کہ
جانا ہو گا
اور خدا حافظ کہہ کر تم کو مسکان سے رخصت کر کے
ہنستے ہنستے لوٹ گیا تھا
رستے میں پھر ہول اٹھے کہ
ایسا پہلے ہوا نہیں کہ
تم مجھ سے یوں وقت کا پوچھو
یا پھر چار بجے ہی تم یوں
واپس جانے کا کہہ ڈالو
ایسا پہلے ہوا نہیں کہ
میں پھر ملنے کا بولوں تو
تم ہنس کر بس ٹال دو مجھ کو
تم تو وقت کا سوچے بن ہی
مجھ سے مل کر
گھنٹوں، پہروں بیٹھی رہتی
ایسے کام کبھی بھی تم کو یاد نہ آیا
ایسے الٹے سیدھے وہموں کو
دل سے باہر کرنے کی خاطر
میں نے اس کو کال ملائی
نہیں ملی پھر
اس کے ہر ہر نمبر پر پھر کال ملائی
وہ بھی جو کچھ عرصہ پہلے بند کیا تھا
وہ بھی جو شاید کسی سہیلی کا تھا
وہ بھی جو کہتی تھی کہ بس
نیٹ پیکج کی سم رکھی ہے
سارے نمبر
سارے ممکن ربط کے رستے
چھان لیے پر
نہیں ملی پھر
تب سے جب بھی کوئی مجھ سے
یوں پوچھے کہ
وقت بتاؤ
نہیں بتاتا
ڈر لگتا ہے

وجاہت باقی

No comments:

Post a Comment