ہم نے جب کہہ دیا نہیں ملنا
اس کا مطلب ہوا نہیں ملنا
آسماں بھر گیا ہے شکووں سے
آہ کو راستہ نہیں ملنا
وقت پر کیوں نہیں چلے گھر سے
اب کوئی قافلہ نہیں ملنا
جس کو دل میں نہیں ملا اس کو
عرش پر بھی خدا نہیں ملنا
ڈور ٹوٹی نہیں ہے الجھی ہے
اس کا کوئی سِرا نہیں ملنا
کب ہوئی ابتدا محبت کی
کہیں لکھا ہوا نہیں ملنا
باغباں آگ لے کے آیا ہے
کوئی پتہ ہرا نہیں ملنا
میرے گھر کا نشان ہے اکبر
جس لحد پر دِیا نہیں ملنا
حسنین اکبر
No comments:
Post a Comment