Tuesday, 17 November 2020

ہم نے جب کہہ دیا نہیں ملنا

 ہم نے جب کہہ دیا نہیں ملنا

اس کا مطلب ہوا نہیں ملنا

آسماں بھر گیا ہے شکووں سے

آہ کو راستہ نہیں ملنا

وقت پر کیوں نہیں چلے گھر سے

اب کوئی قافلہ نہیں ملنا

جس کو دل میں نہیں ملا اس کو

عرش پر بھی خدا نہیں ملنا

ڈور ٹوٹی نہیں ہے الجھی ہے

اس کا کوئی سِرا نہیں ملنا

کب ہوئی ابتدا محبت کی

کہیں لکھا ہوا نہیں ملنا

باغباں آگ لے کے آیا ہے

کوئی پتہ ہرا نہیں ملنا

میرے گھر کا نشان ہے اکبر

جس لحد پر دِیا نہیں ملنا


حسنین اکبر

No comments:

Post a Comment