Tuesday, 17 November 2020

چراغ و طاق میں بیدار ہو گئیں آنکھیں

چراغ و طاق میں بیدار ہو گئیں آنکھیں

با فیضِ عشق سمجھدار ہو گئیں آنکھیں

تمہارا عکس اتارا ہے مدتوں اس میں

عجب نہیں ہے جو تہ دار ہو گئیں آنکھیں

یہ سوتے جاگتے جو خواب دیکھنے لگی ہیں

جنابِ عشق سے دوچار ہو گئیں آنکھیں

یہ جان لیتی ہیں سب حالتیں تیرے دل کی

مراد یہ ہے کہ اوتار ہو گئیں آنکھیں

نہ لوٹنے کو تھا جانا کسی کو ساتھ اس کے

سو بِن بتائے ہی تیار ہو گئیں آنکھیں


ندیم ناجد

No comments:

Post a Comment