Tuesday, 17 November 2020

رات رو رو کے سو گئیں آنکھیں

 رات رو رو کے سو گئیں آنکھیں

چہرۂ غم کو دھو گئیں آنکھیں

نیند کے نیم سبز کھیتوں میں

فصل خوابوں کی بو گئیں آنکھیں

دیکھ کر سنگدل زمانے کو

خود بھی پتھر کی ہو گئیں آنکھیں

رنج و غم کے سفید دھاگے میں

سرخ موتی پرو گئیں آنکھیں

دل کی بینائی سے جلا کے چراغ

سفرِ دید کو گئیں آنکھیں

پھر کسی نے تمہارا نام لیا

پھر کہیں دور کھو گئیں آنکھیں

اس کی آنکھوں کی جھیل میں مقسط

دل کی ناؤ ڈبو گئیں آنکھیں


مقسط ندیم

No comments:

Post a Comment