Tuesday, 17 November 2020

پھول مہکے تو بیابانوں کو گلزار کیا

پھول مہکے تو بیابانوں کو گلزار کیا

سب نے تھک ہار کے ہی عشق اختیارکیا

مستند میر کا فرمایا ہوا ہے اب تک

جس کوعطار کے اک لونڈے نے بیمار کیا

پیرِ غالب نے پری زادوں سے برہم ہو کر

انتقاماً وہاں حوروں کو شرمسار کیا

مبتلا ذوقِ بتاں میں رہا مومن بھی سدا

آخری وقت بھی علت کو روادار کیا

دیکھو ہمارے شاعروں نے عشق کیا کیا

مجنوں بنے رہے سبھی لیلیٰ کو کھو دیا

آتش کی آرزو کبھی پوری نہ ہو سکی

غالب غریب پاؤں کا بوسہ نہ لے سکا

مٹی میں میر مل گیا، محبوب نہ ملا

ناصر وصالِ یار کی حسرت میں مر گیا

ساری حیاتی داغ کو پیتی رہی شراب

ساغر فقیر چرس کے دھوئیں میں ٹھر گیا

پہلی سی دے سکا نہ محبت کسی کو پھر

آخر جنابِ فیض کا بھی پیٹ بھر گیا

کرتا رہا منیر بھی ہر کام دیر سے

کیونکہ گلے میں عشق و محبت کا طوق تھا

ظالم نہیں تھے شہر کے باسی مرے حضور

اس محترم کو آپ ہی مرنے کا شوق تھا

یہ بے مثال لوگ بھی کیا با کمال تھے

نغمات حسن و عشق لا زوال دے گئے

یہ تو بھلا ہو رومی و حالی کا دوستو

اردو کو ایسے عہد میں اقبال دے گئے


ظفر حسین

No comments:

Post a Comment