خود کلامی
آپ خود سے بچھڑ گئی ہوں میں
ایسا لگتا ہے کھو گئی ہوں میں
بھیڑ ہے اس قدر مگر جانے
کیوں اکیلی سی ہو گئی ہوں میں
منزلیں تھیں مری کسی جانب
آ کے کس اور رک گئی ہوں میں
ایک دنیا ہے مجھ سے واقف پر
کب سے خود سے نہیں ملی ہوں میں
جیسا چاہا نہیں تھا اپنے لیے
دیکھ لے ویسے جی رہی ہوں میں
اب سمیٹوں تو کس طرح سمٹوں
جس قدر تجھ میں گھُل گئی ہوں میں
چاہتی ہوں کہ اب پلٹ جاؤں
خود ہی دیوار بن گئی ہوں میں
خود کو آزاد کرنے لگتی ہوں
چیخ اٹھتا ہے کوئی پھر مجھ میں
چھوڑ پاؤں نہ بھول پاؤں جسے
ایک وہی یاد اب بچی مجھ میں
زندگی کیا تیرے تماشے ہیں
سوچنا بھی محال لگتا ہو
تُو انہی سے گزار دیتی ہے
اور پھر انہی مرحلوں میں ہمیں
کیسے جینے کا ڈھب سکھاتی ہے
صائمہ شہاب
No comments:
Post a Comment