Monday, 19 April 2021

دل میں ان کو بسا کے دیکھ لیا

 دل میں ان کو بسا کے دیکھ لیا

آگ گھر میں لگا کے دیکھ لیا

زندگانی وبالِ دوش ہوئی

دل کی باتوں میں آ کے دیکھ لیا

اشک بھر لائی ہیں مِری آنکھیں

اس نے جب مسکرا کے دیکھ لیا

اور اب کس کا اعتبار کریں

دل کو اپنا بنا کے دیکھ لیا

ان کی عادت ہے مسکرا دینا

ہم نے آنسو بہا کے دیکھ لیا

ہم کو جادو کا اعتبار نہ تھا

ان سے نظریں ملا کے دیکھ لیا

غُنچۂ دل کبھی کھِلا ہی نہیں

بار ہا مسکرا کے دیکھ لیا

اختصارِ جواب کے قرباں

مسکرا مسکرا کے دیکھ لیا

کام آتی نہیں وفا جامی

بار ہا آزما کے دیکھ لیا


جامی ردولوی

No comments:

Post a Comment