تِرے سوا تو نظر میں کوئی جچا ہی نہیں
یہ مسئلہ تو مگر تجھ کو دکھ رہا ہی نہیں
وہ دل کی بات نگاہوں سے جان سکتا تھا
وہ جلد باز مگر ان میں جھانکتا ہی نہیں
لکیر کھینچ کے نقشہ غلط کیا میں نے
کہ میرا ہاتھ کسی کی طلب رہا ہی نہیں
سمے کی جھیل نے پانی ترائی پر پھینکا
وہ شہ سوار مگر اس طرف گیا ہی نہیں
مہیب راستے ہم کو کہاں ڈرا سکتے
وفا کی راہ پہ کوئی ہمیں مِلا ہی نہیں
میں سٹپٹا کے رضائی میں منہ چھپاتی ہوں
تمہارا ہجر تو کمرے سے جا رہا ہی نہیں
اسے تلاش کِیا ہے فرح بہت میں نے
وہ ایک شخص جو مِل کر بھی مِل سکا ہی نہیں
فرح خان
No comments:
Post a Comment