ابھی تھوڑی سی جگہ خالی ہے
تمام آباد جگہوں کے درمیان
ابھی تھوڑی سی جگہ خالی ہے
میرے دل کے اندر
میں نے کتنی قیمت ادا کی ہے
اسے خالی رکھنے کی
اس سے پہلے کہ نفرت یہاں قبضہ کر لے
کوئی جھوٹ اپنا حق ثابت کر دے
تم ایک پودا لگا دو
کسی زندہ لمحے کا
کسی روشن لفظ کا
میں وعدہ کرتا ہوں
اسے مرنے نہیں دوں گا
آنے والے زمانے کے لیے
اپنے زمانے کا
کفارہ ادا کرنے کے لیے
جاوید شاہین
No comments:
Post a Comment