اس دل کو ہم نے موم بنانا تو ہے نہیں
پلکوں پہ آنسوؤں کو سجانا تو ہے نہیں
پتھر مزاج لوگوں سے کیا ہوں شکایتیں
دل کی صداؤں پہ انہیں آنا تو ہے نہیں
چہرے پہ مسکراہٹیں، دل میں منافقت
لوگو! یہ چاہتوں کا زمانہ تو ہے نہیں
آنکھوں میں اشک آنے سے روکیں گے کس طرح
دل کی حکایتیں ہیں،۔ فسانہ تو ہے نہیں
رستے میں چاہے ایک زمانہ ہو منتظر
تیرے سوا مجھے کوئی بھانا تو ہے نہیں
آنکھوں کو اس نے خواب دکھائے تو ہیں مگر
خوابوں کو ٹُوٹنے سے بچانا تو ہے نہیں
ثمینہ سید
No comments:
Post a Comment