Monday, 19 April 2021

اس دل کو ہم نے موم بنانا تو ہے نہیں

اس دل کو ہم نے موم بنانا تو ہے نہیں

پلکوں پہ آنسوؤں کو سجانا تو ہے نہیں

پتھر مزاج لوگوں سے کیا ہوں شکایتیں

دل کی صداؤں پہ انہیں آنا تو ہے نہیں

چہرے پہ مسکراہٹیں، دل میں منافقت

لوگو! یہ چاہتوں کا زمانہ تو ہے نہیں

آنکھوں میں اشک آنے سے روکیں گے کس طرح

دل کی حکایتیں ہیں،۔ فسانہ تو ہے نہیں

رستے میں چاہے ایک زمانہ ہو منتظر

تیرے سوا مجھے کوئی بھانا تو ہے نہیں

آنکھوں کو اس نے خواب دکھائے تو ہیں مگر

خوابوں کو ٹُوٹنے سے بچانا تو ہے نہیں


ثمینہ سید 

No comments:

Post a Comment