Thursday, 4 May 2023

یادوں کی جاگیر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا

 یادوں کی جاگیر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا

گر اس کی تصویر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا

اس کے دم سے رانجھا تھا میں وہ ہی مِری پہچان بنی

وہ گر میری ہیر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا

قائل کرنا کام تھا مشکل پر وہ قائل ہو ہی گیا

لہجے میں تاثیر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا

میرا کام تمام تھا ورنہ اس کے نیک ارادے سے

ہاتھوں میں شمشیر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا

اندر سے میں ٹوٹا پھوٹا ایک کھنڈر ویرانہ تھا

ظاہر جو تعمیر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا

ظلمت شب میں روشن افضل اک ننھا سا جگنو تھا

اتنی بھی تنویر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا


افضل ہزاروی

No comments:

Post a Comment