حساب سود و زیاں ساری رات چلتا ہے
یہی یقین و گماں ساری رات چلتا ہے
نکل کے ذہن کے جنگل سے ایک اندیشہ
عروقِ دل میں نہاں ساری رات چلتا ہے
پرانے یار کہیں بیٹھتے ہیں جب مل کر
حدیثِ دل کا بیاں ساری رات چلتا ہے
نتیجہ کوئی نکلتا نہیں تِرے بارے
قیاسِ نکتہ وراں ساری رات چلتا ہے
اسی گلی میں فقیہانِ شہر بستے ہیں
جہاں پہ ذکرِ بُتاں ساری رات چلتا ہے
ذرا سی دیر چمکتی ہے دل میں چنگاری
پھر اس کے بعد دھواں ساری رات چلتا ہے
تمہارے شہر کی مسجد نہیں کہ بند ملے
یہ مے کدہ ہے میاں ساری رات چلتا ہے
تُو شام ڈھلتے ہی گھبرا گیا ہے کیوں عادل
یہاں تو شورِ سگاں ساری رات چلتا ہے
شہزاد عادل
No comments:
Post a Comment