خیالوں کو میں لفظوں میں ادا کر ہی نہیں پاتا
مگر خود کو خیالوں سے جدا کر ہی نہیں پاتا
بُھلا دیکھا ہے پروانہ بھی جلنے کا ہُنر شاید
تبھی ہستی وہ اپنی اب فدا کر ہی نہیں پاتا
عطا مجھ کو کیا اتنا خدا نے، اور کیا مانگوں
اٹھا کر ہاتھ اپنے میں دعا کر ہی نہیں پاتا
سبھی وعدہ تو کرتے ہیں وفاؤں کو نبھانے کا
مگر کوئی اصل میں تو وفا کر ہی نہیں پاتا
جسے آتا نہیں اپنے یہاں حق کے لیے لڑنا
غلامی کر وہ لیتا ہے، گِلہ کر ہی نہیں پاتا
خدا کا ڈر مبارک ہو کسی بندے کے دل میں تو
وہ چاہ کر بھی کبھی کوئی خطا کر ہی نہیں پاتا
مبارک لون
No comments:
Post a Comment