Wednesday, 31 December 2025

جو زخم ملا ہے وہ قرینے سے ملا ہے

 جو زخم ملا ہے وہ قرینے سے ملا ہے

چاہت کا صلہ تیرے سفینے سے ملا ہے

تھی تیری محبت تو اذیت کا گھروندا

الفت کا نشہ دشت میں جینے سے ملا ہے

ہوتے ہیں جو الفاظ رقم میرے قلم سے

یہ صدقۂ احمدﷺ ہے مدینے سے ملا ہے

رہتا ہے مرے دل میں ترے ہجر کا موسم

تحفہ یہ مجھے عرش کے زینے سے ملا ہے

اب عشق کی محفل تو بھلی لگنی ہے کاشف

جیون جو ہمیں موت کے سینے سے ملا ہے


کاشف اورا

No comments:

Post a Comment