جو زخم ملا ہے وہ قرینے سے ملا ہے
چاہت کا صلہ تیرے سفینے سے ملا ہے
تھی تیری محبت تو اذیت کا گھروندا
الفت کا نشہ دشت میں جینے سے ملا ہے
ہوتے ہیں جو الفاظ رقم میرے قلم سے
یہ صدقۂ احمدﷺ ہے مدینے سے ملا ہے
رہتا ہے مرے دل میں ترے ہجر کا موسم
تحفہ یہ مجھے عرش کے زینے سے ملا ہے
اب عشق کی محفل تو بھلی لگنی ہے کاشف
جیون جو ہمیں موت کے سینے سے ملا ہے
کاشف اورا
No comments:
Post a Comment