Wednesday, 31 December 2025

یہ کیسا ظلم ہوا کیسا احتساب ہوا

 یہ کیسا ظلم ہوا کیسا احتساب ہوا

کہ مجھ سے کفر کے جیسا ہی کچھ حساب ہوا

یہ کیسا عشق ہے اور کیسی رسمِ اُلفت ہے

کہ اب تو بات بھی کرنے سے اجتناب ہوا

کہ تجھ سے عشق ہوا اب مرا نہیں سنتا

ستم شتاب ہوا جو یہ دل خراب ہوا

جگر میں تاب نہیں پیری آگئی شاید

بلائیں پڑنے سے کم موسمِ شباب ہوا

بتادو دیکھنے والوں نظر سلامت ہے

سنا ہے آج وہ محفل میں بے نقاب ہوا

رواں دواں تھا زمانہ سبھی سوئے منزل

سلیمؔ سہو کے بستر میں محوِ خواب ہوا


سلیم عباس قادر

No comments:

Post a Comment