Saturday, 8 May 2021

آنے کو نظر میں مری سو فتنہ گر آئے

آنے کو نظر میں مِری سو فتنہ گر آئے 

تجھ سا نظر آیا ہے نہ تجھ سا نظر آئے 

کھل جائے بھرم ضبط محبت کا نہ ان پر 

ڈرتا ہوں کہیں آنکھ میں آنسو نہ بھر آئے 

مے خانے پہ کیا ابر ہے چھایا ہوا یا رب 

جلوے تِری رحمت کے یہاں بھی نظر آئے 

کرتا ہوں دعائیں تو یہ آتی ہیں ندائیں 

تو ہو کسی قابل تو دعا میں اثر آئے 

کرتا ہے وہی دل میں رسا کے جو ٹھنی ہے 

سمجھانے کو سمجھاتے ہیں سب اپنے پرائے


رسا رامپوری

No comments:

Post a Comment