Monday, 1 March 2021

عدو کے وار سے مجھ کو بچا کے نوچتے ہیں

 عدو کے وار سے مجھ کو بچا کے نوچتے ہیں

مِرے عزیز گلے سے لگا کے نوچتے ہیں

انہیں بھلاؤں تو کانٹے بھی نرم لگتے ہیں

کروں جو یاد تو ریشم بھی آ کے نوچتے ہیں

مشاہدے سے یہ جانا ہے یار! محفل میں

بٹھا کے پاس مجھے مسکرا کے نوچتے ہیں

گِرہ لگانے کا مطلب ہے ایک مصرع میں

کہ خود کو ہاتھ کے ناخن بڑھا کے نوچتے ہیں

بہت ہی تیز ہے میرے نفس کے کیڑے بھی

جو خواہشوں کو ضرورت بتا کے نوچتے ہیں

عجیب لوگ ہیں شہرِ سخن میں صابر جی

مِری غزل کو دُکانوں سے لا کے نوچتے ہیں


بلال صابر

No comments:

Post a Comment