Saturday, 5 December 2020

اس کا خیال دل میں گھڑی دو گھڑی رہے

 اس کا خیال دل میں گھڑی دو گھڑی رہے

پھر اس کے بعد میز پہ چائے پڑی رہے

ایسا نہیں کہ ہم کریں باتیں نہ بے حساب

لیکن یہ کیا کہ کیل سی دل میں گڑی رہے

پھر گھر میں ایک آہنی پنجرہ دکھائی دے

کھڑکی میں کافی دیر جو لڑکی کھڑی رہے

بکھری ہو جیسے چاندنی برگِ گلاب پر

مسکان اس کے ہونٹوں پہ ایسے پڑی رہے

دل میں خوشی کے پھوٹتے یوں ہی رہیں انار

تیری ہنسی کی یوں ہی سدا پھلجڑی رہے

کھڑکی تو شاذ بند میں کرتا ہوں بار بار

لیکن ہوائے شوق کہ ضد پر اڑی رہے


زکریا شاذ

No comments:

Post a Comment