میں اسے چاہنے والوں میں گھِرا چھوڑ گیا
یعنی، اس پیڑ کو اتنا ہی گھنا چھوڑ گیا
چیزیں گرتی گئیں رستے میں پھٹے تھیلے سے
چور، غفلت میں ٹھکانے کا پتا چھوڑ گیا
واپس آنے کی تسلی دی، نہ سینے سے لگا
کوئی جاتے ہوئے دروازہ کھلا چھوڑ گیا
صرف آتے ہوئے قدموں کے نشاں ملتے ہیں
خود کہاں ہے؟ جو کنارے پہ گھڑا چھوڑ گیا
ساتھ رکھا، نہ پلٹنے دیا گھر کی جانب
کوئی کشتی کو جزیرے سے لگا چھوڑ گیا
نادر عریض
No comments:
Post a Comment