کثیر ممکنات کو قلیل کر دیا گیا
ہمارا راستہ بہت طویل کر دیا گیا
اب اس گلی میں گھوم پھر کے لوٹنا محال ہے
وہ دائرہ بھی آج مستطیل کر دیا گیا
ہمارے بعد اس طرف کو قافلے نکل پڑے
ہمارے نقشِ پا کو سنگِ میل کر دیا گیا
درخت کو شریک کر لیا ہے اس کی یاد میں
فراق مجھ پہ اس قدر ثقیل کر دیا گیا
وہ خود پرست لوگ مرنے مارنے پہ آ گئے
جب ان کی ہر سند کو بے دلیل کر دیا گیا
نادر عریض
No comments:
Post a Comment