Saturday, 5 December 2020

کثیر ممکنات کو قلیل کر دیا گیا

 کثیر ممکنات کو قلیل کر دیا گیا

ہمارا راستہ بہت طویل کر دیا گیا

اب اس گلی میں گھوم پھر کے لوٹنا محال ہے

وہ دائرہ بھی آج مستطیل کر دیا گیا

ہمارے بعد اس طرف کو قافلے نکل پڑے

ہمارے نقشِ پا کو سنگِ میل کر دیا گیا

درخت کو شریک کر لیا ہے اس کی یاد میں

فراق مجھ پہ اس قدر ثقیل کر دیا گیا

وہ خود پرست لوگ مرنے مارنے پہ آ گئے

جب ان کی ہر سند کو بے دلیل کر دیا گیا


نادر عریض

No comments:

Post a Comment