Sunday, 13 September 2020

جینا عزیز تر ہو تو پھر دار کیا کرے

جینا عزیز تر ہو تو پھر دار کیا کرے
بازار ہی نہ ہو تو خریدار کیا کرے
سایہ تو مانگتے ہیں مگر سوچتے نہیں
سورج ہو عین سر پہ تو دیوار کیا کرے
تم بادشاہِ وقت تھے، کٹوا دئیے تھے ہاتھ
اب قصر گر رہا ہے تو معمار کیا کرے
بے آس، بے مراد جیے کوئی کس طرح
اندھے کنویں میں دیدۂ بیدار کیا کرے
جی خوش نہ ہو تو لب پہ تبسم کہاں سے آئے
گردن ہو خم تو طرۂ دستار کیا کرے

اقبال پیرزادہ

No comments:

Post a Comment