Sunday, 13 September 2020

وہ جو سب کا بہت چہیتا تھا

وہ جو سب کا بہت چہیتا تھا
قبر کی ساعتوں میں تنہا تھا
جس نے دنیا کو خوب دیکھا تھا
اس کی آنکھوں میں قہقہہ سا تھا
رنج کیا خواب کے بکھرنے کا
کچھ نہ تھا ریت کا گھروندا تھا
قہقہوں کی برات نکلی تھی
درد کی چیخ کون سنتا تھا
پل نہ تھا اور سامنے اس کے
ایک طوفاں بدوش دریا تھا
ایک خوشبو کا بانٹنے والا
گندی بستی کا رہنے والا تھا
دکھ میں آخر یہ کھل گیا قیصر
نام اک مصلحت کا رشتہ تھا

قیصر شمیم

No comments:

Post a Comment