وہ جو سب کا بہت چہیتا تھا
قبر کی ساعتوں میں تنہا تھا
جس نے دنیا کو خوب دیکھا تھا
اس کی آنکھوں میں قہقہہ سا تھا
رنج کیا خواب کے بکھرنے کا
قہقہوں کی برات نکلی تھی
درد کی چیخ کون سنتا تھا
پل نہ تھا اور سامنے اس کے
ایک طوفاں بدوش دریا تھا
ایک خوشبو کا بانٹنے والا
گندی بستی کا رہنے والا تھا
دکھ میں آخر یہ کھل گیا قیصر
نام اک مصلحت کا رشتہ تھا
قیصر شمیم
No comments:
Post a Comment