Wednesday, 16 September 2020

ہو کر صف اغیار میں شامل میرے آگے

ہو کر صف اغیار میں شامل میرے آگے
احباب نے توڑا ہے مرا دل میرے آگے
اک عمر سے آنکھوں نے یہ منظر نہیں دیکھا
اے غنچۂ امید! کبھی کھل میرے آگے
وہ صاحبِ اعجازِ قناعت ہوں کہ تھک کر
آسانی میں ڈھل جاتی ہے مشکل میرے آگے
وہ پیکرِ اخلاق و  مروت ہوں کہ ہنس کر
خم کرتا ہے سر مدِ مقابل میرے آگے
اک شور بپا رکھتی ہے تنہائی عقب میں 
خاموش پڑا رہتا ہے ساحل میرے آگے
چلتا ہوں کہ ٹھہرا ہوا ہوں کچھ نہیں معلوم
رستہ میرے نیچے ہے نہ منزل میرے آگے

اقبال پیرزادہ

No comments:

Post a Comment