ہو کر صف اغیار میں شامل میرے آگے
احباب نے توڑا ہے مرا دل میرے آگے
اک عمر سے آنکھوں نے یہ منظر نہیں دیکھا
اے غنچۂ امید! کبھی کھل میرے آگے
وہ صاحبِ اعجازِ قناعت ہوں کہ تھک کر
وہ پیکرِ اخلاق و مروت ہوں کہ ہنس کر
خم کرتا ہے سر مدِ مقابل میرے آگے
اک شور بپا رکھتی ہے تنہائی عقب میں
خاموش پڑا رہتا ہے ساحل میرے آگے
چلتا ہوں کہ ٹھہرا ہوا ہوں کچھ نہیں معلوم
رستہ میرے نیچے ہے نہ منزل میرے آگے
اقبال پیرزادہ
No comments:
Post a Comment