محبت شاد رکھتی ہے
محبت شاد رکھتی ہے
محبت ہی ہمیں آباد رکھتی ہے
یہ وہ کنجی ہے
جو ہر قفلِ غم گِرہ ستم کو
لمحہ بھر میں کھول دیتی ہے
رہا کر کے دوبارہ قید ہونے سے بچاتی ہے
اسے اپنی کشش سے عمر بھر آزاد کرتی ہے
محبت شاد رکھتی ہے
ہماری زندگی اک دشت ویراں ہے
یہ اس میں چین کے راحت کے
گھر تعمیر کرتی ہے
اور اس کار کرم میں مستقل مصروف رہتی ہے
کہیں دل کی زمیں پر عزم کی دیوار اٹھاتی ہے
کہیں اس عزم کی دیوار پر اخلاص کی چھت ڈالتی ہے
اور کہیں پر اک نئی تعمیر کی خاطر
ارادوں سے بھری خوابوں سے پُر بنیاد رکھتی ہے
محبت شاد رکھتی ہے
کوئی روٹھا ہوا مل کر دوبارہ روٹھ جائے تو
بڑی مشکل سے ہاتھ آیا ہوا امید کا دامن
اچانک چھوٹ جائے تو
کوئی پر کیف سپنا بے ارادہ ٹوٹ جائے تو
ہمیں اس عرصۂ دشوار میں گرنے سے گر کر
ٹوٹنے سے ٹوٹ کر تقسیم ہونے سے بچاتی ہے
ہمیں مضبوط اور آباد رکھتی ہے
محبت شاد رکھتی ہے
کسی سے بھی کبھی نفرت نہیں کرتی
کسی کو دلگرفتہ بھی نہیں رکھتی
بھلا دیتے ہیں جو اس کو
انہیں بھی خوشدلی سے یاد رکھتی ہے
محبت شاد رکھتی ہے
محبت ہی ہمیں آباد رکھتی ہے
اقبال پیرزادہ
No comments:
Post a Comment