Thursday, 10 September 2020

اے صبح میں اب کہاں رہا ہوں

اے صبح میں اب کہاں رہا ہوں
خوابوں ہی میں صرف ہو چکا ہوں
سب میرے بغیر مطمئن ہیں
میں سب کے بغیر جی رہا ہوں
کیا ہے جو بدل گئی ہے دنیا
میں بھی تو بہت بدل گیا ہوں
گو اپنے ہزار نام رکھ لوں
پر اپنے سوا میں اور کیا ہوں
میں جرم کا اعتراف کر کے
کچھ اور ہے جو چھپا گیا ہوں
میں اور اسی کی خواہش
اخلاق میں جھوٹ بولتا ہوں
اک شخص جو مجھ سے وقت لے کر
آج آ نہ سکا تو خوش ہوا ہوں
ہر شخص سے بے نیاز ہو جا
پھر سب سے یہ کہہ کے میں خدا ہوں
چرکے تو تجھے دئیے ہیں میں نے
پر خون بھی میں ہی تھوکتا ہوں
رویا ہوں تو اپنے دوستوں میں
پر تجھ سے تو ہنس کے ہی ملا ہوں
اے شخص میں تِری جستجو سے
بے زار نہیں، تھک گیا ہوں
میں شام و سحر کا نغمہ گر تھا
اب تھک کر کراہنے لگا ہوں
کل پر ہی رکھو وفا کی باتیں
میں آج بہت بجھا ہوا ہوں

جون ایلیا

No comments:

Post a Comment