Thursday, 10 September 2020

گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا

گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا
تم سے مل کر بہت خوشی ہو کیا
مل رہی ہو بڑے تپاک کے ساتھ
مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا؟؟
یاد ہیں اب بھی اپنے خواب تمہیں
مجھ سے مل کر اداس بھی ہو کیا
بس مجھے یوں ہی اک خیال آیا
سوچتی ہو تو سوچتی ہو کیا؟
اب مِری کوئی زندگی ہی نہیں
اب بھی تم میری زندگی ہو کیا
کیا کہا، عشق جاودانی ہے
آخری بار مل رہی ہو کیا؟
ہاں فضا یاں کی سوئی سوئی سی ہے
تو بہت تیز روشنی ہو کیا
میرے سب طنز بے اثر ہی رہے
تم بہت دور جا چکی ہو کیا
دل میں اب سوز انتظار نہیں
شمع امید بجھ گئی ہو کیا
اس سمندر پہ تشنہ کام ہوں میں
بان تم اب بھی بہہ رہی ہو کیا

جون ایلیا

No comments:

Post a Comment