مجھے دل میں بسا سر پہ سجا نئیں
محبت کر میری قیمت لگا نئیں
گلے سے لگ پر اپنا سر جھکا نئیں
میرا تیرا ہمسفر ہوں دیوتا نئیں
سفر درپیش ہو گا زندگی کا
عجب ہے خود پسندی کا مرض بھی
کوئی ہے جو کہے میں مبتلا نئیں
بڑی سنجیدگی کا کام ہے یہ
میاں! کارِ محبت مشغلہ نئیں
بڑی عجلت میں اس نے ساتھ چھوڑا
اسے مجھ سے محبت تھی بھی یا نئیں
ہوس کی بھی نہیں ہوتی کوئی حد
محبت کی بھی کوئی انتہا نئیں
نہیں جاتی ہے دل سے آس اگرچہ
تیرے ملنے کا کوئی آسرا نئیں
اقبال پیرزادہ
No comments:
Post a Comment