گلابِ ہجر کا تحفہ تھما گیا اک شخص
ملے بغیر ہی مجھ سے چلا اک شخص
کہیں پہ شمع، کہیں پہ دیا، کہیں مشعل
جلانا کام تھا اس کا جلا گیا اک شخص
کسی کو رات سے پہلے سلایا گہری نیند
کسی کو صبح سے پہلے جگا گیا اک شخص
لبوں کے بیچ سنورتے ہوۓ تبسم پر
فصیلِ گریۂ پیہم گرا گیا اک شخص
کہیں سے بچ کے نکلنے کا راستہ ہی نہیں
تمام شہر میں یادیں بچھا گیا اک شخص
چراغ بننے دیا کیوں جو تجھ کو کہنا پڑا
ہوا چراغ تو گھر ہی جلا گیا اک شخص
اقبال پیرزادہ
No comments:
Post a Comment