فریبِ رنج مسافت میں یاد آتا ہے
ہمیشہ گھر کسی ہجرت میں یاد آتا ہے
اسی کے سائے سے ہے قریۂ گماں میں یقیں
جو پیڑ دھوپ کی شدت میں یاد آتا ہے
خدا سے اپنا تعلق بھی ہے تو بس اتنا
کہ اپنی اپنی ضرورت میں یاد آتا ہے
یہ کون کھینچتا ہے مجھ کو زندگی کی طرف
یہ کون عرصۂ وحشت میں یاد آتا ہے
یہ کیا کہ میں بھی زمانے کا ہو کے رہ گیا ہوں
کہ تُو بھی اب مجھے فرصت میں یاد آتا ہے
میں خود کو بھول کے بھی اس کو بھول پایا نہیں
وہ پوری شکل و شباہت میں یاد آتا ہے
شمشیر حیدر
No comments:
Post a Comment