Thursday, 17 September 2020

مرے لوگو خموشی زہر ہوتی ہے

 نوٹس بورڈ پر


مِرے لوگو

خموشی زہر ہوتی ہے

قیاس آرائی کہتی ہے

اگر سقراط کو سچ بولنے کے جرم میں خاموشی دی جاتی

تو وہ بے خوف فرزانہ

پٹخ دیتا زمیں پر کاسۂ سَم کو

مِرے لوگو

زمانہ بولنے والوں کو اکثر مار دیتا ہے

مگر ان کی کہی باتوں سے اپنے آنے والے پَل سجاتا ہے

انہی چمکیلے لمحوں میں یہ مرنے والے جیتے ہیں

نئی تہذیب کے رسیا، انہی کے بادہ خانوں سے

شرابِ جذب پیتے ہیں

مِرے لوگو

تمہارے چار سُو سقراط رہتے ہیں

مگر یہ کیا

کہ بستی پر سکوتِ مرگ طاری ہے

ذرا سوچو

بھلا سقراط بھی خاموش رہتے ہیں؟

مِرے لوگو

فلک کی آنکھ میں چپ چاپ مرتے جاتے لوگوں کا

کوئی خاکہ نہیں بنتا

مگر جو بول کر مرتے ہیں

اپنی بات کہتے ہیں

ہمیشہ یاد رہتے ہیں


احمد حماد

No comments:

Post a Comment