Sunday, 20 September 2020

نہ چھیڑ قصہ غم ہائے دوستی مرے دوست

نہ چھیڑ قصۂ غم ہائے دوستی مِرے دوست

یہ ایک تلخ فسانہ ہے، پھر کبھی مِرے دوست

ہر اک کے بس کی کہاں ہے یہ زندگی مِرے دوست

گزارتے ہیں جو ہم تم ہنسی خوشی مِرے دوست

زمانہ کیسے کرے گا مجھے نظر انداز؟

گلی گلی مِرے دشمن گلی گلی مِرے دوست

عجب ہے ہمسفروں کا مزاج، کیسے نِبھے

ابھی ابھی مِرے دشمن، ابھی ابھی مِرے دوست

کوئی تو عیب ہے مجھ میں، جو قرب کے باوصف

مِرے خلاف ہوئے ہیں خوشی خوشی مِرے دوست

یہی ہے طرزِ تعلق، تو کس سے کیجئے گِلا

کہ جو عدو کے طرفدار ہیں، وہی مِرے دوست

برنگِ لطف مِرا دل دُکھانے آتے ہیں

کبھی کبھی مِرے دشمن، کبھی کبھی مِرے دوست

کسی بھی روتے ہوئے آدمی کا ہنس پڑنا

ہنسی نہ جان، ہے اظہارِ بے بسی مِرے دوست

خود اپنا آپ بھی دشمن دکھائی دیتا ہے

کوئی مذاق نہیں ہے خود آگہی مِرے دوست

جو سوچئے تو یہاں کوئی بھی کسی کا نہیں

جو دیکھئے تو ہیں اس شہر میں سبھی مِرے دوست


اقبال پیرزادہ 

No comments:

Post a Comment