Saturday, 19 September 2020

گھر بنانے کی پریشانی لیے پھرتا ہوں

 گھر بنانے کی پریشانی لیے پھرتا ہوں

در بدر بے سر و سامانی لیے پھرتا ہوں

شب کو میں دن سے ملاتا ہوں تو دن کو شب سے

اب یہی سلسلۂ جنبانی لیے پھرتا ہوں

کھلبلی ہے میرے انفاس کے دریا میں بہت 

کون سا موجۂ طوفانی لیے پھرتا ہوں

سب پہ ظاہر ہیں میرے عیب و ہنر، ورنہ 

میں جیب میں نقشِ سلیمانی لیے پھرتا ہوں

اپنی درویشی کا اس طرح اڑاتا ہوں مذاق

ذہن میں خواہشِ سلطانی لیے پھرتا ہوں


اقبال پیرزادہ

No comments:

Post a Comment