لڑکھڑاتے ہوئے بھی اور سنبھلتے ہوئے بھی
اس کے در پر ہی گئے خواب میں چلتے ہوئے بھی
عشق آثار تھی ہر راہ گزر اس کی تھی
ہم بھٹک سکتے نہ تھے راہ بدلتے ہوئے بھی
عشق ہے عشق، بہرحال نمو پائے گا
یعنی جلتے ہوئے بھی اور پگھلتے ہوئے بھی
زندگی تیرے فقط ایک تبسم کے لیے
ہم کہ ہنستے ہی رہے درد میں ڈھلتے ہوئے بھی
ایک مدت سے ہیں ہم عشق میں آوارہ بکار
یعنی اک عمر ہوئی پھولتے پھلتے ہوئے بھی
سلسلہ تجھ سے ہی تھا تیرے طلب گاروں کا
برف ہوتے ہوئے بھی، آگ میں جلتے ہوئے بھی
بن تیرے ایسا اندھیرا تھا مرے اندر یار
ڈر لگا عشق کے سورج کو نکلتے ہوئے بھی
پیرزادہ قاسم صدیقی
No comments:
Post a Comment