Saturday, 19 September 2020

لڑکھڑاتے ہوئے بھی اور سنبھلتے ہوئے بھی

 لڑکھڑاتے ہوئے بھی اور سنبھلتے ہوئے بھی

اس کے در پر ہی گئے خواب میں چلتے ہوئے بھی

عشق آثار تھی ہر راہ گزر اس کی تھی

ہم بھٹک سکتے نہ تھے راہ بدلتے ہوئے بھی

عشق ہے عشق، بہرحال نمو پائے گا

یعنی جلتے ہوئے بھی اور پگھلتے ہوئے بھی

زندگی تیرے فقط ایک تبسم کے لیے

ہم کہ ہنستے ہی رہے درد میں ڈھلتے ہوئے بھی

ایک مدت سے ہیں ہم عشق میں آوارہ بکار

یعنی اک عمر ہوئی پھولتے پھلتے ہوئے بھی

سلسلہ تجھ سے ہی تھا تیرے طلب گاروں کا

برف ہوتے ہوئے بھی، آگ میں جلتے ہوئے بھی

بن تیرے ایسا اندھیرا تھا مرے اندر یار

ڈر لگا عشق کے سورج کو نکلتے ہوئے بھی


پیرزادہ قاسم صدیقی

No comments:

Post a Comment