رنگ اڑ کر رونقِ تصویر آدھی رہ گئی
غم غلط کرنے کی یہ تدبیر آدھی رہ گئی
دیکھنے والوں کی آنکھوں سے نہاں اک رخ رہا
پوری کھنچ کر بھی مِری تصویر آدھی رہ گئی
مجھ سے معیادِ اسیری کیا کرو گے پوچھ کر
دیدہ ور ہو جانچ لو، زنجیر آدھی رہ گئی
کہتے ہیں اس میں ہے سازِ حسن پر ہے سوزِ عشق
دیکھ کر گل بانگِ قدرِ میر آدھی رہ گئی
نیم باز آنکھوں کے قرباں یوں کنکھیوں سے نہ دیکھ
اوچھے واروں سے زدِ ہر تیر آدھی رہ گئی
جب جوانی جوش پر آئی تو وہ رخصت ہوئے
زندگی کے قصر کی تعمیر آدھی رہ گئی
سحر ان کی لنترانی سن کے گوشِ ہوش نے
آرزوئے عاشق دل گیر آدھی رہ گئی
سحر عشق آبادی
No comments:
Post a Comment