Saturday, 17 April 2021

بے مول ہے تو

 بے مول ہے تُو


مِرے دل تو مجھ سے خفا نہ ہو

تِری آہیں اور تِری سسکیاں

مجھے بے قرار کئے رہیں

میں گئی تھی اس کی گلی میں کل

وہاں تیری کوئی جگہ نہیں

وہ کبھو کا غیر کا ہو چکا

ہیں وہاں ترازو لگے ہوئے

کئی باٹ اور کئی پلڑے ہیں

وہاں سونے چاندی کا مول ہے

وہاں کھنکھاتی اشرفیاں

وہاں تیرا کوئی نہیں ہے مول

وہاں تیری کوئی جگہ نہیں

وہ سنہرے اور روپہلے خواب

نہیں ان کی کوئی حقیقتیں

تُو بھی خیر سے انہیں بھول جا

تھا محبتوں کا جو سلسلہ

وہ عداوتوں سے بدل گیا

وہاں اب ہیں صرف عداوتیں

مِرے دل تُو مجھ سے خفا نہ ہو

وہاں تیری کوئی جگہ نہیں


شازیہ مفتی

No comments:

Post a Comment