Saturday, 17 April 2021

یہاں ایسی فضا سہمی ہوئی ہے

 یہاں ایسی فضا سہمی ہوئی ہے

کہ بادل میں گھٹا سہمی ہوئی ہے

چمن کے پھول بھی نوحہ کناں ہیں

پرندوں کی صدا سہمی ہوئی ہے

مسلسل بھوک ہے رقصاں یہاں پر

خودی، نخوت، انا سہمی ہوئی ہے

یہاں آؤ مرے بچو کہاں ہو

سدا سے مامتا سہمی ہوئی ہے

محبت کا یہاں انجام دیکھو

کہ کونے میں وفا سہمی ہوئی ہے

یہاں اب نازنیں اور مہ جبیں کی

ہر اک دلکش ادا سہمی ہوئی ہے

نہیں ہے کچھ بچا ایسا کرن اب

عدو کی بد دعا سہمی ہوئی ہے


کرن ہاشمی

No comments:

Post a Comment