نارسائی
مِرا دل رہ گیا ہے
تمہارے پاس تکیے کے کہیں نیچے
جہاں تم خواب رکھتے تھے
کتابوں کی تہوں میں
تم جہاں پر پھول رکھتے تھے
کہیں کُنجِ گُلستاں میں
جہاں پہروں خموشی کی زباں میں باتیں ہوتی تھیں
بڑے صوفے کے پیچھے
جس جگہ دروازہ کھلتا ہے
جہاں پائل گری تھی
تمہیں سب یاد تو ہے نا
اور اک چوڑی بھی ٹوٹی تھی
گراموفون بھی تھا
جہاں ہم دیر تک بیٹھے
جہاں ہم گیت سنتے تھے
مجھے کچھ ایسے لگتا تھا
تمہارے اور میرے لفظ ہیں سارے
وہیں پر ڈھونڈ لینا تم
مِرا دل رہ گیا ہے
تمہیں خوشبو بتا دے گی
تم اپنے دل کی الماری میں رکھ لینا
میں آؤں گی کسی دن
اگر چاہو تو لوٹا دو تم اس کا کیا کرو گے
اب اس سے فرق تو پڑتا نہیں ہے
اسے تم پاس رکھو
میں رکھوں یا طاقِ نسیاں پر دھرا اک سانس کو ترسے
شازیہ مفتی
No comments:
Post a Comment