بعد از زوالِ شمس سرِ عام آئیں گے
تاروں کو وہ مسل کے سرِ شام آئیں گے
اب روز اپنے چھت پہ اڑاتے ہیں ہم پتنگ
جب سے سنا ہے آپ سرِ بام آئیں گے
ناخن ابھی سے اپنے بڑھا لیجئے حضور
ہجر میں بدن نوچنے کے کام آئیں گے
اب عادی نہیں رہے وہ انتظار کے
اب چھوڑ دو امید کہ پیغام آئیں گے
لکھتے ہوئے ہے احمد کسی اور کا خیال
پھر سوچتے ہو یہ کہ الہام آئیں گے
شرجیل احمد
No comments:
Post a Comment