Sunday, 18 April 2021

بجھی بجھی سی طبیعت یہ رنگ لائی ہے

بجھی بجھی سی طبیعت یہ رنگ لائی ہے

کہ آج چاروں طرف میری جگ ہنسائی ہے

نسیم صبح! بتا، تُو ذرا خدا کے لیے؟

یہ کس کے واسطے آخر بہار آئی ہے؟

خدا ہی جانے وہ آئیں گے یا نہ آئیں گے

سلام بھیج کے تقدیر آزمائی ہے

تجلیٔ رُخ زیبا سے ہوں اگر محروم

مِری خطا نہیں قسمت کی نارسائی ہے

جہاں کا غم تو نہیں ہے مگر مجھے خالد

خدا کا خوف بھی ہے، اور غمِ خدائی ہے


خالد کوٹی

No comments:

Post a Comment