مشینی عہد میں حسّاس دل رکھنا قیامت ہے
اس آندھی میں غضب روشن چراغِ شام رکھتے ہو
دریں چہ شک، چکا سکتے ہو تم اخلاص کی قیمت
متاعِ جاں خریدو گے، گرہ میں دام رکھتے ہو؟
اندھیرے میں سراپا کرمکِ شب تاب ہیں ہم بھی
ہمیں دیکھو اگر کچھ روشنی سے کام رکھتے ہو
مگر آثار کہتے ہیں کہ ناواقف ہو منزل سے
اِدھر دو گام رکھتے ہو، اُدھر دو گام رکھتے ہو
محبت کے لیے دل چاہیے اِک ٹوٹنے والا
ہزاروں ایسے دل مل جائیں گے، انعام رکھتے ہو
بہت کچھ سیکھنا ہو گا مظفر کی بیاضوں سے
غزل کہنے چلے ہو اور جذبہ خام رکھتے ہو
مظفر حنفی
No comments:
Post a Comment