Friday, 9 September 2022

دیکھ کے آنکھوں سے وہ ایمان یوں لے آئے

 دیکھ کے آنکھوں سے وہ ایمان یوں لے آئے

جیسے کہ وہی سچ ہو نظر جو انہیں آئے

ظاہر میں جو دکھتے ہیں ٹھاٹھ باٹھ والے ہم

اندر سے ٹوٹ پھوٹ کے بکھرے ہوئے ہیں ہم

کچھ دوستوں کے اعتبار نے کہیں کا نہیں چھوڑا

اک امید جو بھر آئی اک آس نے جو دم توڑا

پر اسرار رشتوں کے بھید نہ سمجھ پائے

الجھے ہوئے دھاگوں کو سلجھا نہیں پائے

عالم ہے جو بنا پھرتا نہیں علم سے آشنائی

لوگوں کی جہالت ہے یہ نہیں اس کی شناسائی

گر خوں نہ ملے دل کو تو یہ گام نہیں چلتا

رشتے میں دراڑ جو آ جائے تو رشتہ نہیں چلتا


اویس احمد

No comments:

Post a Comment