دیکھ کے آنکھوں سے وہ ایمان یوں لے آئے
جیسے کہ وہی سچ ہو نظر جو انہیں آئے
ظاہر میں جو دکھتے ہیں ٹھاٹھ باٹھ والے ہم
اندر سے ٹوٹ پھوٹ کے بکھرے ہوئے ہیں ہم
کچھ دوستوں کے اعتبار نے کہیں کا نہیں چھوڑا
اک امید جو بھر آئی اک آس نے جو دم توڑا
پر اسرار رشتوں کے بھید نہ سمجھ پائے
الجھے ہوئے دھاگوں کو سلجھا نہیں پائے
عالم ہے جو بنا پھرتا نہیں علم سے آشنائی
لوگوں کی جہالت ہے یہ نہیں اس کی شناسائی
گر خوں نہ ملے دل کو تو یہ گام نہیں چلتا
رشتے میں دراڑ جو آ جائے تو رشتہ نہیں چلتا
اویس احمد
No comments:
Post a Comment