Monday, 6 December 2021

جسے ہم نے کبھی دیکھا نہیں ہے

 جسے ہم نے کبھی دیکھا نہیں ہے

اسے کیا جانے کیا ہے کیا نہیں ہے

تِری آنکھوں سے دل کی وادیوں تک

کوئی بھی راہرو پہنچا نہیں ہے

جو پیاسی روح کو سیراب کر دے

وہ بادل آج تک برسا نہیں ہے

شجر کے ہو گئے کیوں زرد چہرے

کوئی پتہ ابھی سوکھا نہیں ہے

مِری تشنہ لبی پہ ہنسنے والو

کھڑا ہوں میں جہاں صحرا نہیں ہے

ہوئے ہیں لوگ پیاسے قتل جب سے

کسی دریا پہ اب پہرا نہیں ہے

تکبر کی چٹانیں ہیں یہ احسن

جو آیا ہے یہاں ٹھہرا نہیں ہے


نواب احسن

No comments:

Post a Comment