میں ترے ساتھ ہوں
کیوں پریشان ہو
کتنی نادان ہو
لغو باتوں کو دل میں بساتی ہو کیوں
دل جلاتی ہو کیوں
خود بھی روتی ہو مجھ کو رُلاتی ہو کیوں
زیست کٹ جائے گی
رات چھَٹ جائے گی
پھر یہ افسردگی کیوں ہے دیوانگی
غم کے اوقات میں حوصلہ شرط ہے
زندگی کے لیے
جسم کا روح سے رابطہ شرط ہے
اک گزارش سنو
اشک کا آنکھ سے رابطہ توڑ دو
اس کی مرضی پہ اپنی خودی چھوڑ دو
جب بھی تنہائی میں سر کھجانے لگو
اپنی روداد خود کو سنانے لگو
یاد اتنا رہے
ہر قدم ہر گھڑی
میں تِرے ساتھ ہوں
میں تِرے ساتھ ہوں
ماجد جہانگیر مرزا
No comments:
Post a Comment