Saturday, 10 April 2021

کیوں پریشان ہو کتنی نادان ہو

 میں ترے ساتھ ہوں


کیوں پریشان ہو

کتنی نادان ہو

لغو باتوں کو دل میں بساتی ہو کیوں

دل جلاتی ہو کیوں

خود بھی روتی ہو مجھ کو رُلاتی ہو کیوں

زیست کٹ جائے گی

رات چھَٹ جائے گی

پھر یہ افسردگی کیوں ہے دیوانگی

غم کے اوقات میں حوصلہ شرط ہے

زندگی کے لیے

جسم کا روح سے رابطہ شرط ہے

اک گزارش سنو

اشک کا آنکھ سے رابطہ توڑ دو

اس کی مرضی پہ اپنی خودی چھوڑ دو

جب بھی تنہائی میں سر کھجانے لگو

اپنی روداد خود کو سنانے لگو

یاد اتنا رہے

ہر قدم ہر گھڑی

میں تِرے ساتھ ہوں

میں تِرے ساتھ ہوں


ماجد جہانگیر مرزا

No comments:

Post a Comment