Saturday, 10 April 2021

کرن میں پھر سے بدلنے لگا خیال اس کا

 کرن میں پھر سے بدلنے لگا خیال اس کا

اتر رہا ہے نئے چاند پر جمال اس کا

گیا ہے شاخ سے وہ اس لیے کہ شاخ رہے

ہوا تو بیج کی صورت ہوا زوال اس کا

جیوں گا میں بھی ہمیشہ کہ جاوداں ہے وہ

میں جی رہا ہوں کہ یہ سال بھی ہے سال اس کا

وہ لے گیا ہے مِری آنکھ اپنی بستی میں

کہ میرے ساتھ رہے رابطہ بحال اس کا

میں صرف پانی کی چھاگل سہی مگر بیدار

ہوا گلاب مِرے دم سے بال بال اس کا


بیدار سرمدی

No comments:

Post a Comment