کتنے سوال سب کی نگاہوں میں رکھ دئیے
گھر کے سبھی چراغ ہواؤں میں رکھ دئیے
یہ انقلابِ گردشِ دوراں تو دیکھیے
اجسام کیسے کیسی قباؤں میں رکھ دئیے
محفل میں شعر ہی نہیں کچھ روشنی بدوش
انوار ہم نے دل کی فضاؤں میں رکھ دئیے
ہر شخص چاہتا ہے کہ ہوں اس پہ آشکار
اسرار تُو نے کیسے گناہوں میں رکھ دئیے
فطرت کا یہ ستم بھی ہے دانش عجیب چیز
سر کیسے کیسے کیسی کلاہوں میں رکھ دئیے
عقیل دانش
No comments:
Post a Comment