کچھ ہاتھ لگ ہی جائے گا آوارگی کے بعد
یعنی سکون پاؤں گا میں زندگی کے بعد
در پیش مسئلہ رہا مجھ کو تمام عمر
آنکھوں سے اشک بہنے لگے ہر خوشی کے بعد
دعویٰ تھا ایک کام کا جو ہو نہیں سکا
مجھ کو بتا میں کیا کروں اب عاشقی کے بعد
الہام تھا عروج پہ بے چین تھی فضا
آخر سکون آ ہی گیا شاعری کے بعد
ہونا بروز حشر ہے بخشش کا فیصلہ
دل سوچتا ہے کیا کرے گا بندگی کے بعد
ادراک جب سے ہو گیا اپنے وجود کا
ہر سانس بار لگنے لگی آگہی کے بعد
یہ وہم تھا یزید تِرا، مٹ گئے حسینؑ
اٹھ دیکھ ہو گئے ہیں امر تشنگی کے بعد
ماجد یہ واہ واہ کا ہے، شور پُر فریب
پوچھوں گا کچھ سوال مگر مفلسی کے بعد
ماجد جہانگیر مرزا
No comments:
Post a Comment