Friday, 23 July 2021

نظر جو دور سے آتا ہے ساحلوں کی طرح

نظر جو دور سے  آتا ہے ساحلوں کی طرح 

وہ آسمان کی وسعت میں بادلوں کی طرح

یہ کس کے ساتھ روانہ کیا گیا مجھ کو

وہ شخص منزلوں جیسا نہ راستوں کی طرح

تمہارے قرب میں قربت کا ایک اک لمحہ

گزر رہا ہے میرے دل سے قافلوں کی طرح

عجیب درد ہے قربت بھی امتحاں جیسے

کہ اس سے ایک تعلق ہے فاصلوں کی طرح

کبھی رہا نہیں پیشِ نظر یہ مال و متاع

حیات ہم نے گزاری ہے صابروں کی طرح

وہ ایک چپ جو ہمیں کھا رہی ہے اندر سے

وہ چند لفظ جو دل میں ہیں خنجروں کی طرح

سحر ہوئی تو دھنک سے تمام چہروں پر

اتر رہی تھی وہی رات آنسوؤں کی طرح


تابندہ سحر عابدی

No comments:

Post a Comment