نظر جو دور سے آتا ہے ساحلوں کی طرح
وہ آسمان کی وسعت میں بادلوں کی طرح
یہ کس کے ساتھ روانہ کیا گیا مجھ کو
وہ شخص منزلوں جیسا نہ راستوں کی طرح
تمہارے قرب میں قربت کا ایک اک لمحہ
گزر رہا ہے میرے دل سے قافلوں کی طرح
عجیب درد ہے قربت بھی امتحاں جیسے
کہ اس سے ایک تعلق ہے فاصلوں کی طرح
کبھی رہا نہیں پیشِ نظر یہ مال و متاع
حیات ہم نے گزاری ہے صابروں کی طرح
وہ ایک چپ جو ہمیں کھا رہی ہے اندر سے
وہ چند لفظ جو دل میں ہیں خنجروں کی طرح
سحر ہوئی تو دھنک سے تمام چہروں پر
اتر رہی تھی وہی رات آنسوؤں کی طرح
تابندہ سحر عابدی
No comments:
Post a Comment